
مالی سال 2025-26 میں پاکستان پیٹرول کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں
مالی سال 2025-26 پاکستانی شہریوں کے لیے معاشی لحاظ سے انتہائی مشکل ثابت ہوا، کیونکہ پاکستان پیٹرول کی قیمتیں 2025-26 کے دوران ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ

مالی سال 2025-26 پاکستانی شہریوں کے لیے معاشی لحاظ سے انتہائی مشکل ثابت ہوا، کیونکہ پاکستان پیٹرول کی قیمتیں 2025-26 کے دوران ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ

2026 کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان غیر ملکی قرض کے لحاظ سے جنوبی ایشیا میں دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ بھارت خطے کا سب سے زیادہ بیرونی قرض رکھنے

لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں سرکاری نرخ مقرر ہونے کے باوجود ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مہنگے داموں فروخت ہونے والی

پاکستان سرکاری قرضے مالی سال 2026 کے دوران نمایاں طور پر سست روی کا شکار رہے، جہاں مرکزی حکومت کے قرضوں میں اضافہ صرف 5 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ وزیرِ

وفاقی حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی شرح میں اضافہ کرتے ہوئے ڈیزل اور پیٹرول پر نئی لیوی نافذ کر دی ہے۔ اگرچہ حکومت نے آئندہ ایک ہفتے کے لیے پیٹرول

تیل کی قیمتوں میں کمی جمعہ کو بھی جاری رہی کیونکہ آبنائے ہرمز سے خام تیل کی ترسیل میں بہتری آنے سے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کم

پیٹرول اور ڈیزل قیمتوں کا تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا ہے جب آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز نے حالیہ قیمتوں میں کمی پر حکومت کے مؤقف کو چیلنج

وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ایف بی آر کی مصنوعی ذہانت پر مبنی حکمت عملی کے ذریعے آئندہ مالی سال میں 15 ہزار 264 ارب روپے کا

پنجاب بجٹ 2026-27 پر ہونے والی بحث اختتام پذیر ہوگئی، جہاں وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے حکومتی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے اپوزیشن کو سخت تنقید کا نشانہ

عالمی تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد بین الاقوامی توانائی مارکیٹ میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ ماہرین کے مطابق