تیل کی قیمتوں میں کمی جمعہ کو بھی جاری رہی کیونکہ آبنائے ہرمز سے خام تیل کی ترسیل میں بہتری آنے سے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کم ہوئے۔ یہ صورتحال عمان کے قریب ایک تجارتی جہاز پر حملے کے باوجود سامنے آئی، جس کے بعد بھی سرمایہ کاروں نے بحال ہوتی سپلائی کو مثبت اشارہ سمجھا۔
برینٹ خام تیل تقریباً دو فیصد کمی کے ساتھ 73.76 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) تقریباً دو فیصد گر کر 70.43 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ دونوں عالمی معیار کے خام تیل اس ہفتے مجموعی طور پر تقریباً آٹھ فیصد کمی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں کمی کی ایک بڑی وجہ سعودی آرامکو کی جانب سے راس تنورہ ٹرمینل پر خام تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کرنا ہے۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق کئی بڑے آئل ٹینکر دوبارہ تیل لوڈ کر رہے ہیں، جس سے عالمی سپلائی میں بہتری کی توقعات مضبوط ہوئی ہیں۔
اگرچہ عمان کے قریب ایک مال بردار جہاز کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکرز کی آمدورفت میں اضافہ دیکھا گیا۔ ماہرین کے مطابق اس پیش رفت نے مارکیٹ کے اعتماد کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بحری سرگرمیوں میں حالیہ اضافہ زیادہ تر ان جہازوں کی روانگی کی وجہ سے ہے جو پہلے خلیج میں پھنسے ہوئے تھے۔ ان کے مطابق نئی ترسیل ابھی بھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی، اس لیے سپلائی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب وینزویلا میں حالیہ زلزلوں نے بھی عالمی تیل مارکیٹ کی توجہ حاصل کی۔ ابتدائی جائزوں میں تیل کے بنیادی ڈھانچے کو محدود نقصان کی اطلاعات ملی ہیں، تاہم بجلی کی فراہمی متاثر ہونے سے پیداوار برقرار رکھنے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ عالمی منڈی اب بھی مشرق وسطیٰ کی صورتحال، آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں اور بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی سپلائی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ یہی عوامل آئندہ قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔