پیٹرول اور ڈیزل قیمتوں کا تنازع

پیٹرول اور ڈیزل قیمتوں کا تنازع، حکومت اور آئل کمپنیوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے

پیٹرول اور ڈیزل قیمتوں کا تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا ہے جب آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز نے حالیہ قیمتوں میں کمی پر حکومت کے مؤقف کو چیلنج کر دیا ہے۔ صنعت کا کہنا ہے کہ قیمتوں کے تعین میں اہم تکنیکی غلطیاں کی گئی ہیں جن سے مالی نقصان کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔

آئل انڈسٹری کے مطابق اختلاف کی بنیادی وجہ اوگرا کی جانب سے عالمی پریمیم اور پلاٹس (Platts) کے اوسط نرخوں کے حساب کا طریقہ کار ہے۔ کمپنیوں کا الزام ہے کہ قیمتوں کا تعین کرتے وقت درست اعداد و شمار کو مکمل طور پر شامل نہیں کیا گیا۔

صنعتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اسی مبینہ غلطی کے باعث ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 45 روپے فی لیٹر اور پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 11 روپے فی لیٹر اضافی کمی کر دی گئی۔ ان کے مطابق یہ کمی حقیقی درآمدی لاگت سے مطابقت نہیں رکھتی۔

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حالیہ پندرہ روزہ جائزے کے دوران درآمدی پریمیم اور عالمی نرخوں کی درست اوسط کو نظر انداز کیا گیا، جس سے قیمتوں کے تعین پر سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

پیٹرول اور ڈیزل قیمتوں کا تنازع حکومت اور آئل انڈسٹری کے درمیان پالیسی اختلافات کو بھی نمایاں کر رہا ہے۔ متعلقہ کمپنیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں کے تعین کے موجودہ نظام کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔

صنعتی نمائندوں کے مطابق اگر عالمی قیمتوں، درآمدی اخراجات اور دیگر عوامل کو مکمل شفافیت کے ساتھ شامل کیا جائے تو مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ درست حساب کتاب سے مارکیٹ میں اعتماد بھی بڑھے گا۔

پیٹرول اور ڈیزل قیمتوں کا تنازع فی الحال حکومت، اوگرا اور آئل کمپنیوں کے درمیان زیرِ بحث ہے۔ آئندہ مذاکرات کے نتائج نہ صرف قیمتوں کے تعین بلکہ ملکی پیٹرولیم پالیسی پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین