خام تیل کی قیمت

عالمی منڈی میں خام تیل سستا، برینٹ کی قیمت 108.80 ڈالر فی بیرل پر آگئی

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے تقریباً ایک فیصد نیچے آکر 108.80 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔ ایشیائی منڈیوں میں پیر کی صبح کاروباری سرگرمیوں کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جبکہ سرمایہ کار عالمی سیاسی صورتحال اور روس سے متعلق امریکی پالیسیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق خام تیل کی عالمی قیمتوں میں یہ کمی گزشتہ کاروباری سیشن میں ہونے والے اضافے کے بعد سامنے آئی ہے۔ جمعے کو کاروبار کے اختتام پر تیل کی قیمتیں 19 مئی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں، جس کے بعد نئے کاروباری ہفتے کے آغاز پر قیمتوں میں معمولی ردوبدل ریکارڈ کیا گیا۔

تیل کی قیمتوں میں تازہ تبدیلی کی ایک اہم وجہ روس سے متعلق امریکی اقدامات کو قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس کے تحت روس سے متعلق متعدد مجوزہ پابندیوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق جن پابندیوں کے نفاذ کی تیاری کی جا رہی تھی، ان میں روسی مصنوعات پر محصولات اور روسی تیل و گیس کی خریداری سے متعلق ممکنہ سزائیں بھی شامل تھیں۔ ان اقدامات میں تبدیلی نے عالمی توانائی کی منڈی میں روسی برآمدات اور مستقبل میں تیل کی فراہمی کے امکانات سے متعلق توقعات کو متاثر کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وضاحت کی ہے کہ روسی برآمدات سے متعلق پابندیوں اور محصولات میں نرمی کا مقصد ماسکو کو مذاکرات کے عمل میں شامل رکھنا ہے۔ اس فیصلے کو روس اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں متعدد عوامل سے متاثر ہوتی ہیں، جن میں بڑی معیشتوں کی پالیسیاں، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، عالمی طلب، تیل کی رسد اور برآمد کنندہ ممالک کے فیصلے شامل ہیں۔ روسی تیل کی تجارت سے متعلق پالیسی میں تبدیلی بھی سرمایہ کاروں کے لیے اہم پیش رفت سمجھی جاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین