ٹرمپ کی مقبولیت

ٹرمپ کی مقبولیت 33 فیصد تک گرگئی، مڈٹرم انتخابات سے قبل ریپبلکنز کو چیلنج

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں ایک بار پھر نمایاں کمی سامنے آئی ہے اور ان کی منظوری کی شرح 33 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ تازہ سروے کے نتائج کو ٹرمپ کے سیاسی کیریئر کے مشکل ترین ادوار میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ نومبر کے مڈٹرم انتخابات بھی قریب آ رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی ووٹرز کی ایک بڑی تعداد ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں اور حکومت کی مجموعی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ مہنگائی، روزمرہ اخراجات اور خارجہ پالیسی سے متعلق فیصلے صدر کی مقبولیت پر اثر انداز ہونے والے اہم عوامل کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

آزاد ووٹرز کے رجحان نے بھی ریپبلکن پارٹی کے لیے تشویش پیدا کردی ہے۔ سروے میں 36 فیصد آزاد ووٹرز نے کہا کہ وہ مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدواروں کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ 22 فیصد نے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کا عندیہ دیا۔

سروے کے مطابق ایران جنگ اور ٹرمپ کی معاشی پالیسیاں صدر کی گرتی ہوئی مقبولیت کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ امریکی عوام میں خارجہ پالیسی کے فیصلوں کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت اور گھریلو بجٹ پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے بھی تشویش پائی جاتی ہے۔

مہنگائی اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی بڑھتی قیمتیں امریکی ووٹرز کے لیے خاص طور پر اہم مسئلہ بن چکی ہیں۔ سروے میں 71 فیصد امریکیوں نے مہنگائی اور روزمرہ اخراجات سے نمٹنے کے لیے ٹرمپ کے طریقۂ کار پر عدم اطمینان کا اظہار کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی مسائل آئندہ انتخابات میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی نے ڈیموکریٹس کو بھی سیاسی طور پر حوصلہ دیا ہے۔ مڈٹرم انتخابات سے قبل ڈیموکریٹک امیدوار صدر کی معاشی کارکردگی اور عوامی مسائل پر اپنی انتخابی مہم مرکوز کرسکتے ہیں، خاص طور پر آزاد اور غیر فیصلہ کن ووٹرز کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین