گوگل نے اعلان کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت پر مبنی سرچ نتائج میں خبروں اور ویب سائٹس کے لنکس کو زیادہ نمایاں کرے گا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خبر رساں ادارے اور برانڈز شکایت کر رہے ہیں کہ اے آئی کے تیار کردہ خلاصوں سے ان کی ویب سائٹس پر آنے والے صارفین کی تعداد کم ہو رہی ہے۔
الفابیٹ کی ذیلی کمپنی گوگل نے گزشتہ دو برسوں کے دوران اپنے سرچ انجن میں مصنوعی ذہانت کے متعدد فیچرز شامل کیے ہیں۔ مئی 2024 میں کمپنی نے اے آئی اوورویوز متعارف کرائے، جو صارفین کے سوالات کے جواب میں روایتی سرچ لنکس کے بجائے معلومات کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔
مارچ 2025 میں گوگل نے اے آئی موڈ متعارف کرایا، جو ایک الگ ونڈو میں تفصیلی جوابات اور مزید لنکس فراہم کرتا ہے۔ نئی تبدیلیوں کے تحت گوگل اے آئی سرچ میں متعلقہ لنکس زیادہ مرتبہ اور اے آئی سے تیار کردہ مواد میں پہلے سے زیادہ نمایاں جگہ پر دکھائے جائیں گے۔
گوگل اپنے لنکس کے کیروسل فیچر کو بھی دنیا بھر میں وسعت دے گا۔ اس فیچر میں اے آئی اوورویوز کے نیچے متعلقہ خبروں کی سرخیاں اور تصاویر کارڈز کی صورت میں دکھائی جاتی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد صارفین کے لیے اصل خبروں تک پہنچنا اور متعلقہ ویب سائٹس کھولنا آسان بنانا ہے۔
کمپنی کے مطابق، سرچ نتائج میں ان ویب سائٹس کے مضامین کو ترجیح دی جائے گی جنہیں صارفین اپنی پسندیدہ ویب سائٹس قرار دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، سوشل میڈیا پوسٹس اور آن لائن فورمز سے متعلقہ مواد بھی شامل کیا جاسکے گا۔ اے آئی سے تیار کردہ خلاصوں کے آخر میں موجود لنکس کو بھی زیادہ نمایاں بنایا جائے گا۔
الفابیٹ کے چیف ایگزیکٹو سندر پچائی نے 2025 کی دوسری سہ ماہی کے نتائج کے موقع پر بتایا تھا کہ اے آئی اوورویوز کے ماہانہ صارفین کی تعداد دو ارب سے تجاوز کرچکی تھی، جو 200 سے زائد ممالک میں موجود تھے۔ تاہم، مختلف مطالعات کے مطابق، اے آئی کے خلاصے صارفین کی جانب سے تجویز کردہ ویب سائٹس کے لنکس کھولنے کے امکانات کم کرسکتے ہیں۔
مشاورتی ادارے چارٹ بیٹ کی رپورٹ کے مطابق، جولائی 2025 سے جولائی 2026 کے درمیان خبر رساں ویب سائٹس کو گوگل سے ملنے والی ٹریفک میں 40 فیصد کمی ہوئی۔ دوسری جانب، فرانس کی اخباری تنظیم اپیگ نے اگست میں مسابقتی ادارے سے شکایت کی کہ اے آئی خلاصے 2022 میں خبر رساں اداروں کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ گوگل کی نئی تبدیلیاں آن لائن خبروں تک رسائی اور پبلشرز کی ویب ٹریفک پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔