ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ امریکی جنگی جہازوں کو دوبارہ خلیج فارس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق، ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے یہ بیان دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی بحری افواج اب اس اہم آبی گزرگاہ کے قریب آنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ اس بیان سے خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے بارے میں ایران کا مؤقف واضح ہوتا ہے۔
علی عبداللہی نے یہ بیان مغربی ایشیا میں امریکی فوج کو درپیش مسلسل ناکامیوں کا ذکر کرتے ہوئے دیا۔ انہوں نے ان حالات کو خطے میں واشنگٹن کی پوزیشن کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ تاہم، رپورٹ میں امریکی فوجی صلاحیتوں سے متعلق ان کے دعووں کی آزادانہ تصدیق کے لیے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
ایرانی فوجی کمانڈر نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحری افواج اب خلیج فارس کے گرد موجود پانیوں کے قریب آنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنی ساحلی حدود کے قریب امریکی فوجی سرگرمیوں کی مخالفت جاری رکھنا چاہتا ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران امریکی جنگی جہازوں کو روکنے کے لیے کون سے اقدامات کرے گا۔
خلیج فارس عالمی توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اس آبی گزرگاہ کے ذریعے تیل پیدا کرنے والے کئی ممالک عالمی منڈیوں سے منسلک ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہاں فوجی سرگرمیاں علاقائی سلامتی اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے حوالے سے اہم اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان علاقائی سلامتی، فوجی تعیناتیوں اور تزویراتی مفادات پر طویل عرصے سے اختلافات موجود ہیں۔ ان اختلافات کے باعث دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان ممکنہ تصادم کے خدشات بھی اہمیت اختیار کرتے رہے ہیں۔ امریکی جنگی جہازوں کی موجودگی کے خلاف ایران کا تازہ بیان دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
علی عبداللہی کا بیان مغربی ایشیا میں وسیع تر سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ خطے میں مختلف تنازعات نے فوجی نقل و حرکت اور سمندری راستوں کی حفاظت کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ تاہم، رپورٹ میں امریکی بحری افواج کے ساتھ ممکنہ تصادم کے حوالے سے ایران کے کسی نئے فوجی منصوبے یا عملی اقدامات کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔
ایرانی کمانڈر کے تازہ بیان سے خلیج فارس میں امریکی بحری موجودگی کے خلاف تہران کا مؤقف ایک بار پھر سامنے آیا ہے۔ تاہم، امریکی فوجی صلاحیتوں سے متعلق ان کے دعوے ان کا اپنا جائزہ ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔ آئندہ صورتحال کا انحصار ایران اور امریکہ کے فیصلوں اور خطے میں مجموعی سلامتی کی صورت حال پر ہوگا۔