خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانے یا گورنر راج نافذ کرنے کے لیے تیاریاں مکمل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے حتمی فیصلہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی مذاکرات کی صورتحال کو دیکھ کر کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے میں ممکنہ انتظامی تبدیلیوں سے متعلق ابتدائی کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس میں ڈپٹی کمشنرز اور سیکرٹریز کی تعیناتیوں اور تبادلوں سے متعلق تیاری شامل ہے۔ ریجنل پولیس افسران اور ضلعی پولیس افسران کی تعیناتیوں کے لیے بھی فہرستیں تیار ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا کے پہلے 12 اضلاع میں ایمرجنسی لگانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ تاہم، یہ تجویز ابھی حتمی فیصلے کے مرحلے تک نہیں پہنچی۔ دستیاب معلومات میں ممکنہ اقدام کے دائرہ کار سے متعلق کسی سرکاری اعلان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ذرائع کے مطابق صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں کے نتائج سے جڑا ہوا ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے سیاسی بات چیت کو آئندہ لائحہ عمل کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان باضابطہ مذاکرات نہ ہونے کے باوجود پس پردہ رابطے جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان رابطوں کے ذریعے دونوں جانب کے مؤقف کو سمجھنے اور سیاسی معاملات میں پیش رفت کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ادھر پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے ملاقات متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر اور دیگر پارٹی رہنما وزیراعلیٰ کو وفاقی سطح پر ملنے والے پیغامات سے آگاہ کریں گے اور تازہ صورتحال پر مشاورت کریں گے۔
ملاقات میں لانگ مارچ سے متعلق معاملات پر بھی گفتگو متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ اور پی ٹی آئی قیادت اہم فیصلے کر سکتے ہیں۔ فی الحال خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کا حتمی فیصلہ سیاسی رابطوں اور مذاکرات کی پیش رفت سے مشروط بتایا جا رہا ہے۔