خیبر پختونخوا میں دہشت گردی

خیبر پختونخوا سے دہشت گردی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے، گورنر فیصل کریم کنڈی

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے سے دہشت گردی کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی امن کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے وفاقی حکومت کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

یہ باتیں گورنر فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آئیں۔ اجلاس میں امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی کے خلاف اقدامات، سکیورٹی اداروں کی استعداد اور ترقیاتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکا نے صوبے میں امن کی بحالی کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا۔

گورنر کنڈی نے کہا کہ صوبائی امور کو مؤثر انداز میں چلانا اور عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق تمام ادارے خیبر پختونخوا میں امن کی بحالی کے مقصد پر متفق ہیں۔ عوام امن، ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھائی جائے گی اور صوبائی پولیس سمیت محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی ضروریات پوری کی گئی ہیں۔ گورنر نے واضح کیا کہ ترقیاتی کاموں پر سمجھوتہ کیا جا سکتا ہے، لیکن سکیورٹی پر نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے قدرتی وسائل اور ترقی کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے امن ضروری ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں مل کر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام دہشت گردی سے نجات اور پُرامن زندگی چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانے کے ساتھ خیبر پختونخوا پولیس کو جدید اسلحہ فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔

محسن نقوی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا پولیس کی قربانیوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو اس جنگ میں قیادت کرنی چاہیے، جبکہ وفاق اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ وزیر داخلہ نے سابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے بجائے سڑکیں بند کرنے اور بدامنی پر توجہ دی۔

وزیر داخلہ نے موجودہ صورتحال میں پُرامن رہنے پر عوام کی تعریف کی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی اداروں کو مضبوط بنانا اور حکومتی اداروں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ ان کے مطابق امن کی بحالی سے صوبے میں ترقیاتی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے اور عوام کے تحفظ کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین