لاہور میں فضائی آلودگی کی سطح میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا اور شہر جمعے کی صبح آئی کیو ایئر کی عالمی فہرست میں سب سے زیادہ آلودہ بڑے شہر کے طور پر سامنے آیا۔ لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 167 ریکارڈ ہوا، جبکہ ڈھاکا 164 اور قاہرہ 158 کے ساتھ بعد میں رہے۔
پنجاب کے حکام نے بعد میں لاہور کا اے کیو آئی 236 ریکارڈ کیا۔ حکام کے مطابق کم رفتار ہواؤں اور درجہ حرارت میں کمی کے باعث آلودگی کے ذرات فضا میں جمع ہوئے۔ صبح کے وقت جنوب مشرق سے چلنے والی ہواؤں کی رفتار تقریباً 5 سے 6 کلومیٹر فی گھنٹہ رہی، جبکہ بعد میں رفتار بڑھنے کی توقع ظاہر کی گئی۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی کی صورتحال مختلف رہی۔ پنجاب انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کے مطابق صبح 6 بجے ملتان روڈ پر اے کیو آئی 500 تک پہنچ گیا۔ پنجاب یونیورسٹی میں 345، شاہدرہ میں 292 اور گلبرگ تھری میں 227 ریکارڈ ہوا۔ صبح 8 بجے پنجاب یونیورسٹی کا اے کیو آئی 385 جبکہ ملتان روڈ کا 91 ہوگیا۔
آئی کیو ایئر عالمی آلودگی کی درجہ بندی ہر گھنٹے بعد اپ ڈیٹ کرتا ہے، اس لیے شہروں کی پوزیشن اور اے کیو آئی میں دن کے دوران تبدیلی آسکتی ہے۔ ہواؤں کی رفتار اور موسمی حالات میں تبدیلی سے لاہور میں فضائی آلودگی کی سطح بھی مختلف رہی۔ بلند اے کیو آئی والے علاقوں میں کارروائیاں تیز کردی گئیں۔
اسموگ گنز، واٹر باؤزرز اور اسپرے مشینیں آلودگی والے علاقوں میں استعمال کی گئیں تاکہ سڑکوں کی گرد اور آلودگی کو کم کیا جاسکے۔ رنگ روڈ سروس لائن، جی ٹی روڈ، یو ای ٹی اور شالیمار ٹاؤن سمیت برکی، ڈی ایچ اے اور ملتان روڈ پر پانی کا چھڑکاؤ کیا گیا۔ ڈرون اور نائٹ اسکواڈز نے بھی نگرانی جاری رکھی۔
حکام کے مطابق ماحولیاتی ٹیموں نے 319 صنعتی یونٹس کا معائنہ کیا، جن میں سے 15 سیل کیے گئے جبکہ ایک مقدمہ درج ہوا۔ 421 بھٹوں کی جانچ کے دوران 5 مسمار اور 8 سیل کیے گئے۔ ناقص پلاسٹک کے خلاف کارروائی میں 267 مقامات کا معائنہ کیا گیا، جبکہ 249 باربی کیو اور کمرشل ککنگ مقامات بھی چیک کیے گئے۔
حکومت نے فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام کیلئے بھی اقدامات تیز کردیئے ہیں۔ حکام کے مطابق پنجاب میں 724,900 ایکڑ پر دھان کی مشینی کٹائی مکمل ہوچکی ہے جبکہ کسانوں کو 437,445 نوٹس جاری کیے گئے۔ حکام نے کہا کہ لاہور میں فضائی آلودگی کم کرنے کیلئے نگرانی، کارروائی اور انسداد اسموگ اقدامات جاری رہیں گے۔