پاکستان نے مبینہ طور پر ایران کی نئی تجویز امریکا تک پہنچا دی ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کیلئے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنگ بندی مذاکرات میں تاحال اہم اختلافات موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے تہران کا مؤقف امریکی حکام تک پہنچایا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی تصدیق کی کہ ایران کے خیالات پاکستان کے ذریعے امریکی حکام کو پہنچائے گئے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی نئی تجویز میں خطے میں تمام محاذوں پر جنگ بندی کے مطالبات شامل ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ لبنان سمیت مختلف علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے بغیر حساس سیاسی اور جوہری معاملات پر بات چیت ممکن نہیں۔
مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے معاملے کو قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اہم بحری راستہ عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کیلئے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی کو “انتہائی نازک” قرار دیا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اب بھی کافی گہرے ہیں اور مذاکرات میں پیشرفت سست روی کا شکار ہے۔
ایران کی نئی تجویز میں جنگی نقصانات کے ازالے، امریکی بحری پابندیوں کے خاتمے، مستقبل میں حملے نہ کرنے کی ضمانت، اور ایرانی تیل کی فروخت بحال کرنے جیسے مطالبات بھی شامل بتائے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر مذاکرات جاری رہے تو پاکستان کا سفارتی کردار مزید اہم ہو سکتا ہے۔ تازہ ایران کی نئی تجویز اس بات کا اشارہ ہے کہ بات چیت کا عمل جاری ہے، تاہم اہم سیاسی اور سیکیورٹی مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔