عالمی بینک کی پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ 2026 کے مطابق پاکستان کی معاشی شرح نمو 2026 میں 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں مہنگائی، مالیاتی خسارے اور ایندھن کی قیمتوں میں تبدیلیوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس میں ملکی معیشت کی کارکردگی اور عوام و کاروباری اداروں کو درپیش مالی دباؤ سے متعلق اہم تفصیلات شامل ہیں۔
عالمی بینک کے مطابق پاکستان نے 2026 کے دوران 3.7 فیصد کی معاشی شرح نمو ریکارڈ کی۔ رپورٹ میں قیمتوں اور گھریلو اخراجات سے متعلق چیلنجز کے تناظر میں ملکی معاشی صورتحال کا جائزہ پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ سرکاری مالی معاملات اور ضروری خدمات کی لاگت میں ہونے والی تبدیلیوں کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران شہری علاقوں میں بنیادی مہنگائی کی اوسط شرح 7.4 فیصد رہی۔ بنیادی مہنگائی میں بعض ایسی اشیا کی قیمتوں کو الگ رکھا جاتا ہے جن میں اتار چڑھاؤ زیادہ ہوتا ہے۔ یہ شرح شہری منڈیوں میں قیمتوں کے دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے، تاہم یہ ہر گھرانے کے مجموعی اخراجات میں اضافے کی مکمل عکاسی نہیں کرتی۔
عالمی بینک کی رپورٹ میں پاکستان کے مجموعی مالیاتی خسارے میں کمی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارہ کم ہو کر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 2.6 فیصد رہ گیا۔ مالیاتی خسارہ حکومت کی آمدن اور اخراجات کے درمیان فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ اس میں کمی بہتر بجٹ مینجمنٹ کی نشاندہی کر سکتی ہے، تاہم اس کے وسیع معاشی اثرات کا انحصار اختیار کیے گئے اقدامات پر ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فروری سے جون 2026 کے دوران پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 36 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی عرصے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل تقریباً 31 فیصد مہنگا ہوا، جبکہ مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت میں تقریباً 46 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ایندھن کی قیمتوں میں یہ اضافہ توانائی اور دیگر ضروری اخراجات پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق اسی عرصے میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں بھی تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا۔ ایندھن مہنگا ہونے سے آمدورفت کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جس کے اثرات اشیا اور خدمات کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اس صورتحال سے گھریلو بجٹ اور کاروباری اداروں کے اخراجات متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے، خصوصاً وہاں جہاں ایندھن اور ٹرانسپورٹ پر زیادہ خرچ ہوتا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ایس اینڈ پی اور موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کی ہے۔ کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کسی ملک کی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت کے بارے میں بہتر جائزے کی عکاسی کر سکتی ہے، تاہم اس سے معاشی ترقی میں اضافے یا قرضوں کی لاگت کم ہونے کی ضمانت نہیں ملتی۔ مجموعی طور پر رپورٹ میں معاشی ترقی اور مالیاتی خسارے میں کمی کے ساتھ ایندھن اور ٹرانسپورٹ کی بڑھتی قیمتوں کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔