اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے متعلق صورتحال کے تناظر میں ایک بڑے سیاسی چیلنج کا سامنا ہے۔ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث پارٹی کی صوبائی سیاسی حیثیت اور بانی چیئرمین عمران خان کیلئے ریلیف حاصل کرنے کی کوششوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اس پیش رفت نے وفاقی حکومت کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کیلئے پی ٹی آئی کی حکمت عملی کو بھی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔
خبر میں شامل ذرائع کے مطابق حالیہ مذاکرات کے دوران عمران خان سے ملاقات، ان کی بہنوں کی رہائی اور اہل خانہ سے ملاقاتوں کا معمول بحال کرنے جیسے معاملات زیر غور آئے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹروں کی سفارش پر اسپتال میں داخلے اور طبی سہولیات کی فراہمی کے امکانات پر بھی بات چیت کی گئی۔ تاہم، حتمی معاہدہ طے نہ پانے کے باعث ان معاملات پر کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
موجودہ سیاسی صورتحال میں بعض حلقوں کی جانب سے محمود اچکزئی اور سہیل آفریدی کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مارچ ختم کرنے پر اتفاق سے قبل عمران خان سے ملاقات کی شرط پر اچکزئی کا اصرار مذاکرات میں رکاوٹ بنا۔ اگرچہ عمران خان تک رسائی پی ٹی آئی کے مطالبات کا اہم حصہ تھی، تاہم اسے پیشگی شرط بنانے سے فوری تصفیے کی کوششیں پیچیدہ ہو سکتی تھیں۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی بھی اختلاف کا اہم معاملہ رہی۔ وفاقی حکومت اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے خیبر پختونخوا انتظامیہ کے تعاون پر تحفظات ظاہر کیے گئے، جبکہ سہیل آفریدی نے ان اقدامات کی مخالفت کی جنہیں وہ صوبائی خودمختاری میں مداخلت تصور کرتے تھے۔ ان اختلافات نے دونوں حکومتوں کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی کشیدگی کو مزید نمایاں کیا۔
خبر میں شامل ایک ذریعے کے مطابق مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں پی ٹی آئی عمران خان اور ان کے خاندان سے متعلق معاملات پر پیش رفت حاصل کرنے کے ساتھ صوبائی حکومت برقرار رکھنے کی کوشش بھی کر سکتی تھی۔ تاہم، معاہدہ نہ ہونے کے بعد پارٹی کی مذاکراتی حکمت عملی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کیلئے یہ بھی اہم سوال ہے کہ آیا شرائط اور مذاکرات کی ترتیب میں زیادہ لچک سے صورتحال مختلف ہو سکتی تھی۔