وفاقی حکومت نے پمز آتشزدگی متاثرین کے خاندانوں کیلئے 50 لاکھ روپے فی خاندان مالی امداد کا اعلان کردیا۔ اسلام آباد کے اسپتال میں آتشزدگی سے 14 شیر خوار بچے جاں بحق ہوئے تھے۔
سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق حکومت نے کہا کہ مالی امداد غمزدہ والدین کو فوری مشکلات سے نمٹنے میں کچھ مدد فراہم کرے گی۔ حکومت نے متاثرہ خاندانوں سے گہری ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔
حکومت نے تسلیم کیا کہ کوئی بھی مالی امداد قیمتی انسانی جانوں کے نقصان کا ازالہ نہیں کرسکتی۔ تاہم، پمز آتشزدگی متاثرین کے خاندانوں کو یہ معاونت مشکل وقت میں سہارا فراہم کرنے کی کوشش ہے۔
آتشزدگی بدھ کے روز پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ میں ہوئی۔ حکام کے مطابق واقعے میں 14 شیر خوار بچے جاں بحق ہوئے، جبکہ 7 بچوں سمیت 19 افراد کو بچا لیا گیا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق ایئر کنڈیشنر سے نکلنے والی چنگاری نیچے گری، جس کے بعد آگ تیزی سے پھیل گئی۔ ان کے مطابق آگ ایک منٹ کے اندر پھیل گئی تھی۔
وزیر صحت نے بتایا کہ آگ بجھانے کیلئے 26 فائر ایکسٹنگوشرز استعمال کیے گئے، تاہم وارڈ میں پانی کے اسپرنکلر موجود نہیں تھے۔ عینی شاہدین نے دھویں، ٹوٹے شیشوں اور ہنگامی صورتحال کے دوران افراتفری کے مناظر بیان کیے۔
حکومت نے پمز آتشزدگی متاثرین کے خاندانوں کو ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ مالی امداد کا اعلان ایسے وقت میں ہوا ہے جب واقعے کی ذمہ داری اور اسپتالوں میں فائر سیفٹی کے انتظامات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔