آبنائے ہرمز میں 8 اکتوبر، جمعرات کو زور دار دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد اس اہم بحری گزرگاہ میں جہازوں کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ گئے۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق، جنوبی راستے سے گزرنے والے آئل ٹینکرز بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا سکتے ہیں۔
آئی آر آئی بی نے ایرانی فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں متعدد زور دار دھماکے ہوئے۔ تاہم، نشریاتی ادارے نے دھماکوں کی وجہ کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ تہران کی جانب سے غیر مجاز قرار دیے گئے راستوں سے گزرنے والے آئل ٹینکرز علاقے میں موجود بارودی سرنگوں سے ٹکرا سکتے ہیں۔ تاہم، رپورٹ میں کسی جہاز کی شناخت یا اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ دھماکے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے باعث ہوئے۔
ایرانی نشریاتی ادارے نے متاثرہ ٹینکروں کی تعداد، ممکنہ جانی نقصان یا جہازوں کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ اس لیے واقعے کی اصل صورت حال اور دھماکوں کی وجوہات بدستور واضح نہیں ہیں۔
آبنائے ہرمز ایک اہم بحری گزرگاہ ہے جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے اس راستے کی اہمیت بہت زیادہ ہے، اسی لیے یہاں جہاز رانی کی سلامتی بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔
دھماکوں کی یہ اطلاعات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر کشیدگی برقرار ہے۔ آئی آر آئی بی کے مطابق، ایران نے جہازوں کو ان راستوں سے گزرنے کے خلاف خبردار کیا ہے جن کی تہران نے اجازت نہیں دی۔ رپورٹ میں ان پابندیوں یا ان پر عمل درآمد کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔
اگر بحری بارودی سرنگوں کی موجودگی کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس واقعے سے تجارتی جہازوں کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم، دستیاب رپورٹ میں دھماکوں کی وجہ، ممکنہ نقصان یا کسی باضابطہ تحقیقات کے آغاز کی تصدیق نہیں کی گئی۔ واقعے کی مکمل صورت حال واضح کرنے کے لیے متعلقہ حکام کی مزید معلومات درکار ہوں گی۔