آبنائے ہرمز کی بندش نے ترقی پذیر ممالک پر معاشی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے خبردار کیا کہ اس صورتحال سے مہنگائی اور قرض لینے کی لاگت بڑھ رہی ہے۔
جارجیوا کے مطابق آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش دنیا بھر میں بانڈز کی شرح منافع بڑھانے والے عوامل میں شامل ہے۔ بڑھتی مہنگائی اور عالمی قرضوں میں اضافہ بھی مالی دباؤ بڑھا رہے ہیں۔
آئی ایم ایف سربراہ نے یہ بات شمالی کیرولائنا میں جی 20 اجلاس کے موقع پر کہی۔ انہوں نے عالمی معیشت میں بڑھتے قرضوں اور مسلسل مہنگائی کے وسیع اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔
جارجیوا نے کہا کہ مسئلہ صرف کم آمدنی والے ترقی پذیر ممالک تک محدود نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں قرضوں کی بلند سطح اور مسلسل مہنگائی بھی عالمی مالیاتی صورتحال کو متاثر کر رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے توانائی کی عالمی منڈیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ توانائی اور دیگر اشیا کی لاگت میں اضافہ کاروباری اداروں اور صارفین کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
جارجیوا کے مطابق اگر عالمی سطح پر قرض لینے کی لاگت مسلسل بڑھتی رہی تو ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک پر زیادہ بوجھ پڑے گا۔ اس سے حکومتوں کے لیے قرضوں کی ادائیگی مشکل ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش، مسلسل مہنگائی اور بلند قرضوں کی لاگت کمزور معیشتوں کے لیے قرضوں کو پائیدار رکھنے کی کوششوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ آئی ایم ایف پہلے ہی مالی استحکام کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے۔