امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں کسی بڑی پیش رفت کی امیدیں کم ہونے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرمایہ کار مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور تیل کی فراہمی سے متعلق خدشات کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 1 اعشاریہ 66 ڈالر اضافے کے بعد 104 اعشاریہ 24 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 1 اعشاریہ 11 ڈالر اضافے کے ساتھ 97 اعشاریہ 46 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
اگرچہ ہفتہ وار بنیادوں پر خام تیل کی قیمتوں میں مجموعی کمی دیکھی گئی، تاہم ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ خام تیل کی قیمت میں 4 اعشاریہ 6 فیصد جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت میں 7 اعشاریہ 6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی اور ممکنہ امن معاہدے سے متعلق توقعات میں مسلسل تبدیلی کے باعث عالمی توانائی منڈی دباؤ کا شکار ہے۔
سرمایہ کار خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ راستہ عالمی تیل سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں جلد پیش رفت نہ ہوئی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔