چین امریکہ پابندیاں آئل ریفائنریاں تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب چین کی وزارت تجارت نے اعلان کیا کہ اس نے پانچ چینی ریفائنریوں پر لگائی گئی امریکی پابندیوں کو روکنے کا حکم جاری کیا ہے۔
چینی وزارت کے مطابق یہ اقدام ان کمپنیوں کے خلاف ہے جن پر امریکہ نے ایران سے تیل خریدنے کا الزام لگایا تھا، جن میں بڑی کمپنی ہینگلی پیٹروکیمیکل اور دیگر چھوٹی ریفائنریاں شامل ہیں۔
امریکہ کا مؤقف ہے کہ یہ کمپنیاں ایران سے اربوں ڈالر کا خام تیل خریدتی رہی ہیں، جس کا مقصد تہران کی آمدنی کو محدود کرنا ہے۔
چین امریکہ پابندیاں آئل ریفائنریاں معاملہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی اور تجارت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
چینی وزارت نے کہا کہ امریکی پابندیاں بین الاقوامی قوانین اور عالمی تعلقات کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں، اس لیے انہیں تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ امریکہ کی پابندیاں ان کمپنیوں پر نافذ نہیں ہوں گی اور نہ ہی ان پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
یہ ریفائنریاں چین کی توانائی کی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتی ہیں لیکن کم طلب اور خام تیل کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق چین امریکہ پابندیاں آئل ریفائنریاں تنازع دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔