فرانس میں پاکستان کی سفیر اور یونیسکو کے لیے مستقل مندوب ممتاز زہرا بلوچ نے جامعہ آکسفورڈ کے زیرِ اہتمام پالیسی مکالمے میں شرکت کی۔ اس مکالمے کا موضوع “پالیسیوں کے ذریعے تعلیم کو سب کے لیے مساوی اور منصفانہ کیسے بنایا جا سکتا ہے؟”
فرانس میں پاکستانی سفارت خانے سے جاری بیان کے مطابق، ممتاز زہرا بلوچ نے تعلیمی پالیسیوں میں ہم آہنگی اور مؤثر رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے پالیسی سازوں، علمی اداروں اور سول سوسائٹی کے درمیان مکالمے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعاون ہی تعلیمی نظام کو بہتر اور جامع بنا سکتا ہے۔
سفیر نے یونیسکو کے تعلیمی ایجنڈے کا خاکہ پیش کرتے ہوئے تعلیم تک رسائی کو فروغ دینے میں یونیسکو کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ یونیسکو یہ کام پالیسی رہنمائی، تکنیکی تعاون اور جامع تعلیمی نظاموں کی معاونت کے ذریعے انجام دے رہا ہے۔
ممتاز زہرا بلوچ نے شرکاء کو تعلیم میں مساوات اور رسائی کے فروغ کے حوالے سے یونیسکو کی کوشوں کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے تعلیم کے لیے جدید مالی وسائل کی تلاش میں یونیسکو کے کردار کو سراہا اور اس سلسلے میں پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے سکول سے باہر بچوں کے بڑھتے ہوئے مسئلے کی جانب بھی توجہ دلائی۔ سفیر کا کہنا تھا کہ یہ ایک عالمی چیلنج ہے جس کے لیے مربوط پالیسیاں اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
ممتاز زہرا بلوچ نے شرکاء کو پاکستان کے “ایجوکیشن ایمرجنسی پلان” کے بارے میں بھی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ اس پلان کا مقصد تعلیم تک رسائی کو بڑھانا، بنیادی تعلیم کو مضبوط بنانا، ڈیجیٹل شمولیت کو بہتر بنانا اور لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینا ہے۔