شمالی کوریا نے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ کے حالیہ دورہ پیانگ یانگ کے دوران چین شمالی کوریا تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک “وسیع اور دور رس منصوبہ” طے پایا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے (KCNA) کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن اور شی جن پنگ نے اپنے تعلقات کو “انقلابی دوستی” قرار دیتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے بات چیت کے دوران اطمینان کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ چین شمالی کوریا تعلقات کو مزید مضبوط اور اسٹریٹجک سطح پر لے جایا جائے گا۔
شی جن پنگ کے دورے میں تاریخی مقامات کا دورہ بھی شامل تھا، جہاں انہوں نے کوریا جنگ میں حصہ لینے والے چینی فوجیوں کی یادگاروں پر حاضری دی، جسے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کی علامت قرار دیا گیا۔
دورے کے بعد شی جن پنگ نے کم جونگ اُن کو خط لکھا جس میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے باہمی مفادات پر اہم اتفاق رائے حاصل کیا ہے۔ چینی میڈیا کے مطابق یہ ملاقات تعلقات کے نئے دور کی بنیاد بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ دورہ چین کی جانب سے شمالی کوریا پر اپنے اثر و رسوخ کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پیانگ یانگ روس کے ساتھ بھی قریبی تعلقات بڑھا رہا ہے، جس سے چین شمالی کوریا تعلقات مزید اہم ہو گئے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملاقات میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا، جسے تجزیہ کار بیجنگ کی محتاط سفارتی حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔