چین نے بڑھتی ہوئی امریکا ایران کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مزید فوجی کارروائیوں سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔ بیجنگ کا یہ بیان خطے میں تازہ حملوں اور جوابی کارروائیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے بدھ کو میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ چین موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے کشیدگی میں کمی انتہائی ضروری ہے۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب امریکی فوج نے ایرانی فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایک امریکی فوجی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے جواب میں کی گئی، جس کے بعد امریکا ایران کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔
بعد ازاں ایران نے خطے میں بعض امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا نے تہران کے عزم کو آزمانے کا فیصلہ کیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع مزید نمایاں ہوگیا۔
چین نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کریں اور حالات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔ بیجنگ کے مطابق فوجی کارروائیاں مسائل کے حل کے بجائے بحران کو مزید پیچیدہ بناتی ہیں۔
چینی حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ایسے وقت میں کسی نئی فوجی کشیدگی سے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور خطے میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔
چین نے ایک بار پھر واضح کیا کہ طاقت کا استعمال دیرپا حل فراہم نہیں کرسکتا۔ امریکا ایران کشیدگی کے تناظر میں بیجنگ نے تمام متعلقہ فریقوں سے سیاسی اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے، خودمختاری کا احترام کرنے اور جلد جامع جنگ بندی کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔