کراچی: معروف ٹی وی میزبان ندا یاسر نے اپنی 20 سالہ کامیاب ازدواجی زندگی کے حوالے سے اہم انکشافات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کی والدہ کی دانشمندانہ سوچ نے ان کے ازدواجی رشتے کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
اپنے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ندا یاسر نے کہا کہ شادی کے ابتدائی برسوں میں وہ بہت جذباتی تھیں اور معمولی اختلافات پر فوری ردِعمل دیا کرتی تھیں۔ ان کے مطابق جب بھی شوہر یا سسرال سے متعلق کوئی مسئلہ پیش آتا تو وہ سیدھا اپنی والدہ کے پاس جا کر اپنے دل کی بات کرتی تھیں۔
ندا یاسر نے بتایا کہ ان کی والدہ نہایت سمجھدار خاتون تھیں۔ وہ ان کی تمام باتیں توجہ سے سنتی تھیں لیکن کبھی ان کی شکایتوں کی بنیاد پر ان کے شوہر کے خلاف منفی رائے قائم نہیں کرتیں۔ ان کا ماننا تھا کہ غصے اور جذبات کی حالت میں کہی گئی باتوں کو مستقل فیصلہ نہیں بنانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ میاں بیوی کے درمیان اختلافات زندگی کا حصہ ہوتے ہیں اور اکثر چند دن بعد معاملات معمول پر آ جاتے ہیں۔ تاہم اگر والدین جذباتی ردِعمل دیں تو بعد میں رشتوں میں غیر ضروری فاصلے پیدا ہو سکتے ہیں۔
ندا یاسر کے مطابق بعض اوقات بیٹی اپنے شوہر سے صلح کر لیتی ہے لیکن والدین کے ذہن میں داماد کے بارے میں منفی تاثر باقی رہ جاتا ہے، جس سے خاندانی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے والدین کا متوازن رویہ بے حد اہم ہے۔
نوجوان لڑکیوں کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ازدواجی مسائل یا وقتی ناراضی کی صورت میں فوری طور پر پورے خاندان کو شامل کرنے کے بجائے کسی سمجھدار اور قابلِ اعتماد دوست سے بات کرنا زیادہ بہتر ہو سکتا ہے۔
ندا یاسر نے مزید کہا کہ بعض اوقات انسان کو صرف اپنی بات کہنے اور دل کا بوجھ ہلکا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک مخلص دوست کے ساتھ گفتگو ذہنی سکون فراہم کرتی ہے اور کئی معاملات وقت کے ساتھ خود بخود بہتر ہو جاتے ہیں۔