پاکستان میں ڈسکوز کی نجکاری کے عمل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے کیونکہ چین، قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کے سرمایہ کاروں نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے۔ حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے تحت نجکاری کے عمل کو تیز کر رہی ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے لیے ٹرانزیکشن اسٹرکچر کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مالی نقصانات میں کمی اور کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔
حکومت نے فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے 51 سے 100 فیصد تک شیئرز فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان میں ڈسکوز کی نجکاری کے اس مرحلے میں غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی متوقع ہے۔
حکام کے مطابق سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لیے چین، قطر، سعودی عرب اور ترکیہ میں روڈ شوز منعقد کیے جائیں گے۔ مزید یہ کہ کسی ایک سرمایہ کار یا گروپ کو ایک سے زیادہ ڈسکوز خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی تاکہ مسابقتی ماحول برقرار رہے۔
نجکاری کمیشن کے مطابق فیسکو میں دلچسپی ظاہر کرنے کی آخری تاریخ 7 جولائی مقرر کی گئی ہے، جبکہ دوسری اور تیسری کمپنی کے لیے بالترتیب 6 اگست اور 7 ستمبر تک درخواستیں جمع کرائی جا سکیں گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے نقصانات تقریباً 600 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، جس کے باعث اس کی نجکاری فی الحال ممکن نہیں۔ رواں مالی سال کے اپریل تک بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے مجموعی نقصانات 255 ارب روپے ریکارڈ کیے گئے۔
حکام کے مطابق گزشتہ مالی سال میں یہ نقصانات 357 ارب روپے تھے، جبکہ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ جو کبھی 2,300 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا، اب کم ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں ڈسکوز کی نجکاری توانائی کے شعبے کی مالی حالت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔