MQM-P کراچی منصوبے

ایم کیو ایم کا کراچی منصوبوں کیلئے بڑے فنڈز کا مطالبہ

کراچی کے ترقیاتی منصوبے وفاقی بجٹ 2026-27 سے قبل ہونے والی ایک اہم ملاقات کا مرکزی موضوع رہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے جمعہ کو اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں سندھ کے شہری علاقوں کے ترقیاتی منصوبوں اور آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما امین الحق کے مطابق وفد نے شہری سندھ کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج کا مطالبہ کیا۔ پارٹی نے کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 20 ارب روپے اور حیدرآباد کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی درخواست بھی کی۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے وفد کو یقین دلایا کہ کراچی اور حیدرآباد کے لیے مناسب فنڈز بجٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔ اس یقین دہانی کو شہری ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ملاقات میں گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم، یعنی K-IV منصوبہ بھی زیر بحث آیا۔ ایم کیو ایم پاکستان نے منصوبے کے لیے فنڈز کی فراہمی اور تکمیل کے شیڈول پر بات کی، جس پر وزیراعظم نے مطلوبہ فنڈز جاری کرنے کا وعدہ کیا۔

وفد نے کراچی اور حیدرآباد کو ملانے والے M-9 روٹ کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ایم کیو ایم رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ کے اس اہم حصے کو ایک مکمل موٹروے کی ضرورت ہے تاکہ سفر اور تجارتی سرگرمیوں کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

اس کے علاوہ مین لائن-1 (ML-1) ریلوے منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایم کیو ایم پاکستان نے مطالبہ کیا کہ کراچی سے روہڑی تک کے حصے پر کام مالی سال 2026-27 کے دوران شروع کیا جائے کیونکہ یہ منصوبہ ریلوے نظام کی بہتری کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

تقریباً نصف گھنٹے جاری رہنے والی ملاقات میں حکومتی اتحاد کی قیادت بھی موجود تھی۔ ایم کیو ایم پاکستان کے مطابق حکومت نے اجلاس میں اٹھائے گئے تمام اہم مسائل پر پیش رفت کی یقین دہانی کرائی، جس سے MQM-P کراچی منصوبے اور سندھ کے دیگر ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے توقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین