امریکا ایران معاہدہ

امریکا ایران معاہدے پر اسرائیلی قیادت اور تجزیہ کاروں کی شدید تنقید

امریکا ایران معاہدہ سامنے آنے کے بعد اسرائیل میں شدید سیاسی ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ اسرائیلی حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ تہران کے لیے سیاسی کامیابی ثابت ہوسکتا ہے جبکہ اسرائیل کے اہم سیکیورٹی خدشات بدستور برقرار ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے کے تحت خطے میں کشیدگی کم کرنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران پر امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل سموٹریچ نے امریکا ایران معاہدہ کو اسرائیل اور آزاد دنیا کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

دوسری جانب اسرائیلی سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادی گروپوں کی حمایت جیسے اہم معاملات شامل نہیں ہیں۔ ان کے مطابق یہ اسرائیل کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

معروف کالم نگار بین ڈرور یمینی نے معاہدے کو ایران کی "سیاسی فتح” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تہران کو بین الاقوامی سطح پر مزید قبولیت حاصل ہوسکتی ہے، جبکہ بنیادی سیکیورٹی مسائل حل نہیں ہوئے۔

تجزیہ کار بین کاسپٹ اور آوی اشکنازی نے بھی اس پیش رفت کو اسرائیل کے لیے سفارتی ناکامی قرار دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ اسرائیل معاہدے کی شرائط پر اثر انداز ہونے میں ناکام رہا اور ایران کا جوہری پروگرام اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

امریکا ایران معاہدہ نے اسرائیل میں علاقائی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کے مطابق معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس کے عملی نفاذ اور خطے کے دیرینہ تنازعات کے حل پر ہوگا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین