تیل کی قیمتیں عالمی منڈی میں مارچ کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ گئیں ہیں، جس کی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ابتدائی معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت نے توانائی کی عالمی سپلائی کے حوالے سے خدشات کم کر دیے ہیں۔
برینٹ کروڈ فیوچرز میں 4.08 ڈالر یعنی 4.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد قیمت 83.25 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 4.35 ڈالر یعنی 5.1 فیصد کمی کے ساتھ 80.53 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں کمی امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز سے بحری ٹریفک بحال کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آئی۔ یہ آبی راستہ عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کشیدگی میں کمی کے باعث تیل کی قیمتوں میں شامل جیوپولیٹیکل رسک پریمیم تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ سرمایہ کار توقع کر رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی جلد معمول پر آ جائے گی۔
اطلاعات کے مطابق معاہدے کے تحت 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا امکان ہے، جس پر ایک مفاہمتی یادداشت سوئٹزرلینڈ میں دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، لیکن سپلائی چین کی مکمل بحالی میں وقت لگ سکتا ہے کیونکہ جنگ کے دوران انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ معاہدے پر کس حد تک عملدرآمد ہوتا ہے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کس طرح آگے بڑھتی ہے۔