پشاور: خیبرپختونخوا میں ایک بار پھر گندم کی قلت اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات نے سر اٹھا لیا ہے، جس پر صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے فوری مداخلت کی درخواست کر دی ہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے وفاق کو ارسال کیے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ گندم اور آٹے کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو صوبے میں آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
حکومتی مراسلے کے مطابق خیبرپختونخوا گندم کی پیداوار کے حوالے سے مکمل طور پر خود کفیل نہیں اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی حد تک پنجاب سے آنے والی گندم پر انحصار کرتا ہے۔ بین الصوبائی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث مارکیٹ میں سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ اگر گندم کی فراہمی میں رکاوٹیں برقرار رہیں تو 40 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 4 ہزار 400 روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عوام کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
صوبائی حکومت نے واضح کیا کہ کابینہ پہلے ہی 2 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کی منظوری دے چکی ہے، تاہم گندم کی ترسیل میں تاخیر اور مختلف مقامات پر غیر ضروری چیکنگ کے باعث سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔
حکام کے مطابق گندم کی نقل و حمل میں درپیش مسائل نہ صرف ذخائر پر دباؤ بڑھا رہے ہیں بلکہ مستقبل میں مارکیٹ میں طلب اور رسد کے توازن کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 151 کے تحت آزاد بین الصوبائی تجارت کو یقینی بنایا جائے تاکہ گندم اور آٹے کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور ہوں اور صوبے میں ممکنہ غذائی بحران سے بچا جا سکے۔