کھاد کی سپلائی بھارت کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں بھارتی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ 16 بحری جہاز جو کھاد لے کر بھارت جا رہے تھے، اس وقت آبنائے ہرمز میں پھنس گئے ہیں۔
بھارتی وزارتِ کھاد کی جوائنٹ سیکریٹری بندنا پریاشی کے مطابق ان بحری جہازوں میں زرعی پیداوار کے لیے ضروری مختلف اجناس موجود ہیں جن میں یوریا، ڈی اے پی، امونیا اور سلفر شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق آٹھ بحری جہازوں میں تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن یوریا، چار جہازوں میں 2 لاکھ 57 ہزار ٹن ڈی اے پی جبکہ دیگر جہازوں میں امونیا اور سلفر موجود ہے۔
حکام کے مطابق بھارت پہلے ہی تقریباً 5 ملین ٹن زرعی کھاد درآمد کر چکا ہے تاکہ موسمِ خریف کی ضروریات پوری کی جا سکیں، جبکہ ملکی پیداوار میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔
مزید ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھارت نے 1.7 ملین ٹن یوریا درآمد کرنے کے لیے عالمی ٹینڈر بھی جاری کیا ہے تاکہ سپلائی میں تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال کھاد کی سپلائی میں کسی بڑے بحران کا خدشہ نہیں ہے اور موجودہ سیزن میں ضروریات پوری کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ آبنائے ہرمز میں تاخیر سے سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے، لیکن حکومتی انتظامات سے فوری بحران کا امکان کم ہے۔