جی 7 معاشی چیلنجز

جی 7 معاشی چیلنجز میں اضافہ، مہنگائی اور تیل کی قیمتوں پر تشویش

جی 7 معاشی چیلنجز فرانس میں ہونے والے سربراہی اجلاس کا اہم موضوع بن گئے ہیں، جہاں عالمی رہنما بڑھتی مہنگائی، تیل کی بلند قیمتوں اور عالمی اقتصادی سست روی پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ اگرچہ حالیہ امریکہ ایران معاہدے نے فوری خدشات کم کیے ہیں، لیکن اس کے معاشی اثرات اب بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

رواں سال ایران سے متعلق تنازع کے دوران تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے توانائی کی لاگت اور افراطِ زر میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال نے کئی بڑی معیشتوں کی ترقی کی رفتار کو متاثر کیا ہے۔

مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر یورپی مرکزی بینک اور جاپان کے مرکزی بینک نے حال ہی میں شرح سود میں اضافہ کیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد توانائی کی قیمتوں کے اثرات کو معیشت کے دیگر شعبوں تک پھیلنے سے روکنا ہے۔

یورپی رہنماؤں نے بھی بڑھتی ہوئی توانائی لاگت اور عوامی مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافے نے مختلف ممالک کی حکومتوں پر سیاسی دباؤ بڑھا دیا ہے۔

اس کے باوجود جی 7 اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر براہ راست تنقید سے گریز کیا گیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک تجارت، نیٹو اور یوکرین سمیت کئی اہم معاملات پر واشنگٹن کے تعاون کے خواہاں ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کی امید نے عالمی منڈیوں میں اعتماد پیدا کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر معاہدہ برقرار رہا تو توانائی کی فراہمی میں استحکام آ سکتا ہے۔

دوسری جانب عالمی معیشت میں ابھرتی ہوئی طاقتوں کے بڑھتے کردار کے باعث جی 7 کی افادیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ بین الاقوامی بحرانوں کے دوران مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کے لیے یہ فورم اب بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین