وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت اپنی انتہائی نازک صورتحال سے باہر آ چکی ہے اور اب بحالی کی جانب گامزن ہے۔ قومی اسمبلی میں بجٹ 2026-27 پر بحث کے دوران انہوں نے معیشت کی موجودہ صورتحال کو ایسے مریض سے تشبیہ دی جو آئی سی یو سے باہر آ چکا ہو۔
خواجہ آصف کے مطابق موجودہ حکومت کے ابتدائی دور میں ملک کو شدید مالی مشکلات کا سامنا تھا اور ڈیفالٹ کا خطرہ مسلسل موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام اور سخت شرائط کے باوجود ملک نے مالی استحکام حاصل کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان ابھی مثالی معاشی مقام تک نہیں پہنچا، لیکن مثبت اقتصادی اشاریے بہتر مستقبل کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ رفتار برقرار رہی تو پاکستان کی معیشت آئندہ ایک سے دو برس میں چھ سے سات فیصد شرح نمو حاصل کر سکتی ہے۔
وزیر دفاع نے ٹیکس نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ ٹیکس شرحیں لوگوں کو ٹیکس چوری کی طرف مائل کرتی ہیں، اس لیے ایسا نظام متعارف کرایا جانا چاہیے جس میں شہری خوشی سے ٹیکس ادا کریں اور قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے مسائل کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور ان کا حل اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں امن و امان کی بہتری اور بنیادی ڈھانچے کی حفاظت تمام سیاسی قوتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
خواجہ آصف نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل سے پاکستان کی عالمی سطح پر اہمیت اجاگر ہوئی ہے اور بہتر علاقائی تعلقات سے پاکستان کی معیشت کو بھی نمایاں فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
اسی اجلاس میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے این ایف سی ایوارڈ کی موجودہ تقسیم کے فارمولے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صرف آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم چھوٹے صوبوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ انہوں نے آبادی میں کمی اور متوازن ترقی کے لیے نئے مراعاتی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔