پاکستان کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس

پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ مئی 2026 میں 459 ملین ڈالر سرپلس

کراچی: پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن میں مزید بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جہاں مئی 2026 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ کھاتہ 45.9 کروڑ ڈالر سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔ اس پیش رفت کو ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب درآمدی دباؤ اور عالمی معاشی چیلنجز برقرار ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ میں مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 2.55 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بہتری بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم اور بیرونی ادائیگیوں کے بہتر انتظام کا نتیجہ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مئی 2026 کے دوران پاکستان نے دنیا بھر سے تقریباً 5.6 ارب ڈالر مالیت کی اشیا درآمد کیں، جبکہ برآمدات کا حجم 2.3 ارب ڈالر رہا۔ اس طرح ماہانہ تجارتی خسارہ 3.3 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں مجموعی تجارتی خسارہ 24.3 ارب ڈالر رہا۔ اسی عرصے میں پاکستان نے 54 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی مصنوعات اور خام مال درآمد کیا، جب کہ برآمدات کا حجم 29.75 ارب ڈالر تک پہنچا۔

معاشی اعداد و شمار کے مطابق مئی کے مہینے میں کارکنوں کی ترسیلات زر نے نمایاں کردار ادا کیا۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ایک ماہ کے دوران ریکارڈ 4.2 ارب ڈالر وطن بھیجے، جس نے کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

مزید برآں، رواں مالی سال کے 11 ماہ کے دوران مجموعی ترسیلات زر 38 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم سہارا ثابت ہو رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی کھاتوں کے استحکام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین