ایرانی تیل کی برآمدات

امریکہ ایران معاہدے کے بعد ایرانی تیل کی برآمدات میں بحالی کے آثار

ایرانی تیل کی برآمدات میں دوبارہ سرگرمی دیکھی جا رہی ہے کیونکہ کئی تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ پیش رفت امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ فریم ورک معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور اہم بحری راستے کو دوبارہ فعال بنانا ہے۔

جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق دستیاب معلومات کے مطابق کم از کم تین ٹینکر اس ہفتے ایرانی خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔ اس پیش رفت کو توانائی کی عالمی منڈیوں کے لیے ایک اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ہیرو ٹو اور ڈیونا نامی دو بڑے تیل بردار جہاز، جن میں تقریباً بیس لاکھ بیرل تیل موجود ہے، خلیج عمان سے گزر کر ایشیائی منڈیوں کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔ اسی طرح سونیا ون نامی ایک اور جہاز تقریباً دس لاکھ بیرل تیل لے کر سنگاپور کی طرف جا رہا ہے۔

دوسری جانب اسٹریم نامی ایرانی منسلک ٹینکر، جو اس وقت خالی ہے، بھی اسی راستے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحری کمپنیوں کا اعتماد آہستہ آہستہ بحال ہو رہا ہے۔

حالیہ مہینوں میں پابندیوں اور بحری رکاوٹوں کے باعث ایران کی تیل برآمدات میں نمایاں کمی آئی تھی۔ توانائی کے شعبے سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق مئی میں برآمدات کئی برسوں کی کم ترین سطح تک پہنچ گئی تھیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے نئے مفاہمتی معاہدے کے تحت ایران کو فوری طور پر تیل اور ایندھن کی فروخت دوبارہ شروع کرنے کی اجازت ملنے کی توقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے عالمی سطح پر تیل کی رسد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

عالمی توانائی منڈیاں اب اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ ایرانی تیل کی فراہمی کس رفتار سے بحال ہوتی ہے۔ اضافی رسد کی توقعات کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے، جو حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران نمایاں طور پر بڑھ گئی تھیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین