فرانس میں گرمی کی لہر ایک بار پھر شدت اختیار کرنے جا رہی ہے، جس کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت غیر معمولی سطح تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ حکام شہریوں کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔
قومی محکمہ موسمیات میٹیو فرانس کے مطابق آئندہ چند روز میں گرم موسم پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ بعض علاقوں میں درجہ حرارت 36 سے 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے جبکہ ہفتے کے اختتام پر کچھ خطوں میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ گرمی کی لہر فرانس کے سالانہ موسیقی میلے "لا فیٹ دے لا میوزیک” کے موقع پر آ رہی ہے، جس میں ملک بھر میں بڑی تعداد میں لوگ شرکت کرتے ہیں۔ حکام نے عوام کو گرمی سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
شدید گرمی کے پیش نظر پیرس انتظامیہ نے کینال سینٹ مارٹن کے ایک حصے میں نگرانی کے تحت تیراکی کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو محفوظ انداز میں ٹھنڈک حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
حکام کے مطابق گزشتہ گرمی کی لہر کے دوران نوجوانوں کی بڑی تعداد غیر رسمی طور پر نہر میں اتر گئی تھی، جس کے بعد محفوظ تیراکی کے مقامات فراہم کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ تاہم پلوں سے چھلانگ لگانے پر پابندی برقرار رہے گی۔
گرمیوں کے دوران دریائے سین کے مخصوص حصوں میں بھی عوام کو تیراکی کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ پانی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے گزشتہ برسوں میں بڑے پیمانے پر منصوبوں پر کام کیا گیا تھا۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ یورپ میں گرمی کی لہریں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ آ رہی ہیں۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران فرانس میں شدید گرمی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو مستقبل کے لیے ایک اہم ماحولیاتی چیلنج ہے۔