ٹرمپ ایران معاہدہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ طے پانے والا حتمی معاہدہ ان کی توقعات پر پورا نہ اترا تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔
فرانس میں جی 7 اجلاس کے موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ ملاقات کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران سے متعلق حالیہ مفاہمتی یادداشت حتمی معاہدہ نہیں بلکہ ایک ابتدائی فریم ورک ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق موجودہ سمجھوتہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور اہم تجارتی راستوں کو بحال کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
ٹرمپ نے معاہدے کے معاشی اثرات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے اعلان کے بعد اسٹاک مارکیٹوں میں بہتری آئی ہے جبکہ تیل کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی، جس سے عالمی معیشت پر دباؤ کم ہوا ہے۔
انہوں نے ان خبروں کو مسترد کیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکا ایران میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرے گا۔ ٹرمپ کے مطابق اس وقت ایسی کوئی منصوبہ بندی موجود نہیں اور فوری طور پر پابندیوں میں نرمی بھی معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور دیگر اقتصادی معاملات پر بعد میں بات چیت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال اور حزب اللہ سے متعلق امور سفارتی مذاکرات کا حصہ ہیں۔
مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے خطے میں امن کے لیے ہونے والی پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ٹرمپ کو مبارک باد دی۔ تاہم دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ اب توجہ ایک جامع اور پائیدار حتمی ٹرمپ ایران معاہدہ طے کرنے پر مرکوز ہے۔