وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغان شہریوں کی واپسی کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے افغانستان کا پُرامن، مستحکم اور معاشی طور پر مضبوط ہونا انتہائی ضروری ہے۔ عالمی یومِ مہاجرین کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے پاکستان کے انسانی ہمدردی پر مبنی کردار کو اجاگر کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دنیا بھر کے مہاجرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ان کے حوصلے، استقامت اور مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ممالک کی قربانیوں کو بھی عالمی سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ محفوظ ماحول ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور جنگ، بدامنی یا دیگر بحرانوں کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کی حفاظت اور بحالی عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اسی تناظر میں افغان شہریوں کی واپسی کو بھی ایک بین الاقوامی مسئلہ قرار دیا گیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا پناہ گزینوں کے عالمی دن 20 جون 2026 پر پیغام
عالمی یومِ مہاجرین پر پاکستان اقوام عالم کے ساتھ مل کر دنیا بھر کے مہاجرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے
پاکستان دنیا کے ساتھ ہم آواز ہو کر بے گھر اور نقل مکانی پر مجبور افراد کے بلند عزم و حوصلے اور کو… pic.twitter.com/WOSBXUXbH3— PTV News (@PTVNewsOfficial) June 20, 2026
شہباز شریف نے یاد دلایا کہ 1979 کے بعد پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود لاکھوں افغان مہاجرین کے لیے اپنی سرحدیں کھولیں۔ ملک نے کئی دہائیوں تک انہیں پناہ، تعلیم، صحت اور روزگار سمیت بنیادی سہولیات فراہم کیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان چار دہائیوں سے زائد عرصے تک دنیا کے بڑے مہاجرین میزبان ممالک میں شامل رہا۔ افغان خاندانوں کو عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کیے گئے، جو پاکستان کی انسانی اقدار کی عکاسی کرتے ہیں۔
وزیراعظم کے مطابق ستمبر 2023 سے پاکستان مرحلہ وار، منظم اور باوقار انداز میں افغان شہریوں کی واپسی کا پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔ جون 2026 تک 24 لاکھ سے زائد افغان شہری اپنے وطن واپس جا چکے ہیں، جو اس عمل کی اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
اپنے پیغام کے اختتام پر وزیراعظم نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور دیگر شراکت دار اداروں سے تعاون بڑھانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ بے گھر اور بے وطن افراد کو امید، امن اور باعزت واپسی کے مواقع فراہم کرنا مشترکہ عالمی ذمہ داری ہے۔