بولیویا ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد ملک میں جاری سیاسی اور معاشی بحران ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ صدر روڈریگو پاز نے 50 روز سے جاری احتجاج اور سڑکوں کی بندش کے باعث ملک بھر میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے، جس سے فوج کو امن و امان بحال کرنے کے لیے وسیع اختیارات مل گئے ہیں۔
صدر کے مطابق یہ اقدام ملک میں ضروری اشیا کی فراہمی بحال کرنے اور عوامی زندگی کو معمول پر لانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ہنگامی حالت نافذ ہوتے ہی حکومت کو اہم شاہراہوں سے رکاوٹیں ہٹانے اور متاثرہ علاقوں تک رسائی بحال کرنے کے آئینی اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔
احتجاجی گروپوں نے کئی اہم سڑکیں بند کر رکھی ہیں جس کے نتیجے میں خوراک، ایندھن اور ادویات کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔ دارالحکومت لاپاز سمیت مختلف شہروں میں سپلائی چین متاثر ہونے سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بحران اس وقت شروع ہوا جب حکومت نے بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے ایندھن پر دی جانے والی طویل المدتی سبسڈیز ختم کرنے کا اعلان کیا۔ بعد ازاں حکومت نے کچھ فیصلوں میں نرمی بھی کی، تاہم عوامی احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
مظاہرین میں شامل مزدور تنظیمیں اور مختلف سماجی گروپ تنخواہوں میں اضافے، ڈالر اور ایندھن کی قلت کے خاتمے اور حکومت سے مستعفی ہونے کے مطالبات کر رہے ہیں۔ دوسری جانب سابق صدر ایوو مورالس کے حامی دیہی گروپ بھی احتجاج میں سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔
صدر پاز نے حال ہی میں ملک کی بڑی مزدور تنظیم کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کا مقصد کشیدگی کم کرنا تھا، لیکن کئی احتجاجی گروپ مذاکرات کا حصہ نہیں بنے اور انہوں نے سڑکوں کی بندش برقرار رکھی ہوئی ہے، خاص طور پر کوچابامبا کے علاقے میں۔
صدر نے قوم سے خطاب میں کہا کہ بولیویا ہنگامی حالت عوام کی آزادی محدود کرنے کے لیے نہیں بلکہ شہریوں کو مشکلات سے نجات دلانے کے لیے نافذ کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کیا جائے گا اور ضروری اشیا کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔