اسرائیلی سفیر اقوام متحدہ تنازع اس وقت خبروں کی زینت بن گیا جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن اور ایک سینئر یو این عہدیدار کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ واقعہ بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
یہ واقعہ مسلح تنازعات میں جنسی تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ اجلاس میں پیش آیا۔ ڈینی ڈینن نے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ پرامیلا پیٹن پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
اسرائیلی سفیر نے الزام عائد کیا کہ ایک حالیہ رپورٹ میں اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی قیدیوں کے خلاف مبینہ جنسی تشدد کے واقعات کا ذکر کرکے اسرائیل کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے رپورٹ کو متنازع قرار دیا۔
اجلاس کے دوران بچوں اور مسلح تنازعات سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ وینیسا فریزر نے ضابطے کے تحت مداخلت کرنے کی کوشش کی۔ تاہم ڈینی ڈینن نے ان کی بات روک دی اور بلند آواز میں انہیں خاموش رہنے کو کہا۔
وینیسا فریزر نے جواب میں کہا کہ معاملے کو ذاتی نوعیت نہیں دینی چاہیے اور انہیں ضابطے کے مطابق بات کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس کے باوجود اجلاس میں کچھ دیر تک کشیدگی برقرار رہی اور ماحول خاصا گرم ہو گیا۔
فریزر نے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کو فلسطینی بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ رپورٹ میں بچوں کے خلاف بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔
یہ اسرائیلی سفیر اقوام متحدہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ اور فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوام متحدہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات پہلے ہی نمایاں ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ واقعہ عالمی اداروں اور رکن ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کی ایک اور مثال ہے۔