بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان اپنے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے غیرملکی دورے پر ملائیشیا اور چین جا رہے ہیں۔ یہ سفارتی دورہ خاص اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے کیونکہ روایتی طور پر پڑوسی ملک بھارت کے بجائے دیگر ایشیائی ممالک کو ترجیح دی گئی ہے۔
بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کے مطابق وزیراعظم اتوار کو ملائیشیا پہنچیں گے جبکہ اس کے بعد وہ چین کا دورہ کریں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان ملاقاتوں میں اقتصادی تعاون، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
چین کے دورے کے دوران بنیادی ڈھانچے سے متعلق اہم منصوبے زیر بحث آئیں گے۔ ان میں دریائے تیستا کی بحالی اور انتظام سے متعلق طویل عرصے سے زیر التوا منصوبہ بھی شامل ہو سکتا ہے، جس کے لیے چینی تعاون پر بات چیت متوقع ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ دورے بنگلہ دیش کی اقتصادی شراکت داریوں کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کا حصہ ہیں۔ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کو وسعت دینے کے لیے سرگرم سفارت کاری پر زور دے رہی ہے۔
ملائیشیا میں تقریباً آٹھ لاکھ بنگلہ دیشی کارکن موجود ہیں، جو وہاں کی غیر ملکی افرادی قوت کا بڑا حصہ ہیں۔ اسی وجہ سے مزدوروں کے حقوق، روزگار کے مواقع اور دوطرفہ اقتصادی تعلقات بھی دورے کے اہم نکات میں شامل ہوں گے۔
بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات گزشتہ چند برسوں میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ 2024 کی عوامی تحریک کے نتیجے میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت ختم ہوئی، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی دیکھنے میں آئی۔