پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے ایران اور امریکا کے مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سفارتی ذرائع اور ایرانی حکام کے بیانات کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جاری بات چیت نے کئی اہم معاملات پر مثبت نتائج پیدا کیے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ پاکستان اور قطر کی کوششوں کے نتیجے میں لبنان جنگ کے خاتمے کے حوالے سے بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ مذاکرات نے نہ صرف علاقائی استحکام کی راہ ہموار کی بلکہ ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد سازی کے عمل کو بھی تقویت دی ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد قطر اور پاکستان کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جسے دونوں فریقین کے درمیان پیش رفت کا اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اعلامیے میں آئندہ مذاکراتی عمل کے لیے فریم ورک اور نگرانی کے نظام پر اتفاق کیا گیا۔
Tireless Pakistani and Qatari mediation has delivered major progress to end Lebanon War. Oil and petrochem exports are waived, blockade lifted, some frozen assets released, and major reconstruction & development plan launched for Iran.
1st real test: Lebanon deconfliction cell https://t.co/q0okD2qwSO
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) June 22, 2026
عباس عراقچی کے مطابق ایران کے لیے تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمدات پر عائد بعض پابندیوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت سے ایرانی معیشت کو سہارا ملے گا اور عالمی منڈیوں میں توانائی کی فراہمی بہتر ہونے کی توقع ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ بعض منجمد ایرانی اثاثے بھی جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ اقتصادی ناکہ بندی کے چند اہم حصوں میں نرمی لائی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات مذاکراتی عمل میں اعتماد بڑھانے کے لیے کیے گئے ہیں۔
اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ حتمی معاہدے کے آغاز کے لیے ضروری بنیادوں پر بات چیت کی گئی۔ وزارت کے مطابق دوسرے فریق کی ذمہ داریوں پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی حوصلہ افزا پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔