گلگت بلتستان اسمبلی کے 33 میں سے 30 نو منتخب ارکان نے حلف اٹھا کر اپنی پارلیمانی ذمہ داریوں کا آغاز کر دیا۔ حلف برداری کی تقریب اسمبلی ہال میں منعقد ہوئی جہاں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے شرکت کی۔
نو منتخب ارکان سے حلف اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی نذیر احمد ایڈووکیٹ نے لیا۔ حلف اٹھانے والے ارکان میں مختلف جماعتوں کے نمائندے شامل تھے جنہوں نے آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق اپنی رکنیت کا آغاز کیا۔
حلف اٹھانے والوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے 13، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے 9، استحکام پاکستان پارٹی کے 6 اور مجلس وحدت المسلمین کے ایک رکن شامل تھے۔ اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ایک آزاد رکن نے بھی حلف اٹھایا۔
حلف برداری کے بعد اسپیکر نے اسمبلی کا اجلاس دوپہر 3 بجے تک ملتوی کر دیا۔ دوبارہ شروع ہونے والے اجلاس میں اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور قائدِ ایوان کے انتخاب کا عمل مکمل کیا جائے گا، جس کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کی راہ ہموار ہوگی۔
دوسری جانب اسمبلی کی تین نشستوں پر حلف برداری کا عمل مکمل نہ ہو سکا۔ عدالتی احکامات کے باعث اسکردو کے ایک اور دیامر کے دو حلقوں کے سرکاری نوٹیفکیشن تاحال جاری نہیں کیے گئے، جس کے باعث ان حلقوں کے منتخب نمائندے اسمبلی رکنیت کا حلف نہیں اٹھا سکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ان نشستوں کے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد اسمبلی کی مکمل تعداد سامنے آئے گی، جس سے ایوان میں سیاسی جماعتوں کی مجموعی پوزیشن مزید واضح ہوگی۔
ادھر پاکستان پیپلز پارٹی نے امجد حسین ایڈووکیٹ کو گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا ہے۔