امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق ممکنہ امریکہ ایران معاہدہ تہران کے لیے نمایاں معاشی فوائد کا باعث بن سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی ماہ پر محیط کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باوجود ایران اپنی بعض اہم صلاحیتیں برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے، جبکہ سفارتکاری کے ذریعے معاشی مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً چار ماہ جاری رہنے والی جنگ کے باوجود ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔ اگرچہ فوجی کارروائیوں کا مقصد ایران کی جوہری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچانا تھا، تاہم تجزیے میں کہا گیا ہے کہ پروگرام کے بعض اہم حصے اب بھی موجود ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی کہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام جنگ کے بعد بھی برقرار رہا۔ اس کے علاوہ ایران کے علاقائی اتحادی سرگرم ہیں اور ملک کا سیاسی نظام بھی اپنی جگہ قائم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستی ڈھانچے میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔
رپورٹ کے مطابق جنگ اور بعد ازاں ہونے والے سفارتی اقدامات کے باوجود مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال میں کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ اگرچہ ان اقدامات نے عالمی توجہ حاصل کی، لیکن خطے کا تزویراتی منظرنامہ بڑی حد تک پہلے جیسا ہی رہا۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ایران معاہدہ ایران کے لیے اہم معاشی مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ کشیدگی میں کمی اور سفارتی روابط میں بہتری تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جس سے ایرانی معیشت کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ فوجی برتری کے اظہار کے بجائے مزید تصادم سے گریز کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فریقین ممکنہ طور پر طویل تنازع سے بچنے اور مسائل کے سفارتی حل کی جانب بڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
امریکہ ایران معاہدہ کے اثرات پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر سفارتی عمل کامیاب رہتا ہے تو اس سے نہ صرف علاقائی استحکام میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ ایران کے لیے معاشی بحالی کے نئے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔