گلگت بلتستان اسمبلی کے نو منتخب ارکان نے پیر کے روز اسمبلی ہال گلگت میں منعقدہ افتتاحی اجلاس کے دوران حلف اٹھا لیا، جس کے ساتھ ہی پانچ سالہ نئے پارلیمانی دور کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام 24 حلقوں کے حتمی نتائج 17 جون کو جاری کیے گئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) 11 نشستوں کے ساتھ گلگت بلتستان اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے چھ نشستیں حاصل کر کے دوسری بڑی جماعت کی حیثیت حاصل کی۔ جبکہ استحکام پاکستان پارٹی نے آزاد امیدواروں کی شمولیت کے بعد اپنی پوزیشن مضبوط بنائی اور ایک اہم پارلیمانی گروپ کے طور پر سامنے آئی۔
دیگر جماعتوں میں مجلس وحدت المسلمین نے ایک نشست حاصل کی جبکہ پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے دو نشستیں جیتیں، جس سے گلگت بلتستان اسمبلی میں ایک متنوع سیاسی منظرنامہ تشکیل پایا۔
سابق اسپیکر ایڈووکیٹ نذیر احمد نے نو منتخب ارکان سے حلف لیا۔ اس موقع پر تمام اراکین نے آئین کی پاسداری، عوام کی خدمت اور ایمانداری سے فرائض انجام دینے کا عہد کیا۔
حلف برداری کے بعد اسمبلی کے باقاعدہ اجلاس شروع ہوں گے جن میں اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور قائد ایوان کے انتخاب سمیت دیگر پارلیمانی امور شامل ہیں۔ یہ اقدامات گلگت بلتستان اسمبلی کی نئی سیاسی سمت متعین کریں گے۔
سیاسی جماعتوں کے درمیان حکومت سازی کے لیے مشاورت جاری ہے۔ پیپلز پارٹی کے وزیر اعلیٰ کے منصب کے لیے مضبوط امکانات ہیں جبکہ اتحادی جماعتوں کو اہم عہدے دیے جانے کا امکان ہے، جس سے گلگت بلتستان میں نئی حکومت کی تشکیل کا عمل آگے بڑھے گا۔