اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے لبنان جنگ بندی کے کسی بھی امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو خطے میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھنی چاہئیں۔ ان کے بیان نے خطے میں جاری کشیدگی اور سفارتی کوششوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ لبنان “اسرائیل کا کھیل کا میدان” ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں کسی بھی جنگ بندی پر اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیل کے مؤقف سے آگاہ کریں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور ممکنہ امن فریم ورک پر پیش رفت حاصل کرنا ہے، تاہم لبنان جنگ بندی پر اختلافات برقرار ہیں۔
بن گویر نے فوجی کارروائی جاری رکھنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ پالیسی کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ان کا مؤقف اسرائیل کی سخت گیر سیاسی حلقوں کی نمائندگی کرتا ہے جو فوری جنگ بندی کے مخالف ہیں۔
دوسری جانب اپوزیشن رہنما ایویگڈور لیبرمین نے امریکہ ایران معاہدے کو اسرائیل کی تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی نقصان قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ایسے معاہدے ایران اور اس کے اتحادیوں کو مزید مضبوط کر سکتے ہیں، جس سے لبنان جنگ بندی کے امکانات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے اندرونی سیاسی اور سکیورٹی حلقوں میں امریکی سفارتی حکمت عملی پر اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ کچھ حلقے سمجھتے ہیں کہ ایران کے اثر و رسوخ کو کم سمجھا جا رہا ہے، جبکہ دیگر مذاکرات کے ذریعے حل کی حمایت کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق جاری کشیدگی کے باعث لبنان جنگ بندی کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے میں فوجی اور سفارتی پالیسیوں کے درمیان واضح تقسیم موجود ہے۔