لبنان میں اسرائیلی فوج

جرمنی کا لبنان میں اسرائیلی فوج کی مستقل موجودگی کو مسترد کرنا

جرمنی نے واضح کیا ہے کہ وہ لبنان میں اسرائیلی فوج کی مستقل موجودگی کو قبول نہیں کرتا۔ یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ اور فوجی کارروائیوں میں شدت دیکھی جا رہی ہے۔

جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ برلن لبنان کی سرزمین پر اسرائیلی افواج کی طویل مدتی تعیناتی کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ لبنانی شہریوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے سے نہیں روکا جانا چاہیے، کیونکہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کا احترام ضروری ہے۔

جرمن حکومت نے ایک بار پھر لبنان کی علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ضروری ہے۔

یہ بیان اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے حالیہ ریمارکس کے بعد سامنے آیا ہے، جنہوں نے کہا تھا کہ اسرائیلی فوج پر لبنان میں کوئی پابندی نہیں اور وہ نام نہاد سیکیورٹی زون سے انخلاء نہیں کرے گی۔ ان بیانات نے لبنان میں اسرائیلی فوج کے حوالے سے عالمی بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے فوجی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد خطرات کا خاتمہ اور سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ مؤقف اسرائیل کی مجموعی سکیورٹی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔

جرمنی کا یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا ہے جب لبنان کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ان کارروائیوں نے شہری آبادی کی نقل مکانی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی برادری کا دباؤ بڑھ رہا ہے کہ لبنان میں غیر ملکی افواج کی موجودگی ختم کی جائے اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ لبنان میں اسرائیلی فوج کا معاملہ خطے کی سفارتکاری میں ایک اہم تنازع بن چکا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین