وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے حکومت کی قانونی حیثیت پر اٹھائے گئے اعتراضات کو مسترد کر دیا۔ مالی سال 27-2026 کے فنانس بل پر بحث کے دوران انہوں نے کہا کہ اگر 2018 کے عام انتخابات کو جائز تسلیم کیا جاتا ہے تو موجودہ حکومت کو بھی اسی بنیاد پر جائز ماننا چاہیے۔
اپوزیشن رہنما محمود خان اچکزئی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اگر انتخابی معاملات کی تحقیقات کرنی ہیں تو آغاز 2018 کے انتخابات سے ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے واقعات کا جائزہ لیے بغیر صرف موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانا مناسب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کا فورم قومی مسائل کے حل کے لیے استعمال ہونا چاہیے اور غیر ضروری سیاسی تنازعات سے گریز کرنا چاہیے۔ وزیراعظم نے اپوزیشن کی کئی باتوں کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت آئینی اور جمہوری اصولوں کے مطابق کام کر رہی ہے۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif addresses the National Assembly Session (23 June, 2026). pic.twitter.com/X0fspwhltd
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) June 23, 2026
صوبائی ترقی کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صرف ایک صوبے کی ترقی کو پاکستان کی ترقی نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے مطابق پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی یکساں ترقی ہی حقیقی قومی ترقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں کو مساوی مواقع ملنا قومی یکجہتی کے لیے ضروری ہے۔
وزیراعظم نے ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان رابطوں اور مذاکرات میں مثبت کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد ملی۔
انہوں نے بتایا کہ آئندہ مذاکرات میں جوہری تنصیبات، بیلسٹک میزائل پروگرام اور منجمد اثاثوں سمیت اہم امور پر بات چیت ہوگی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ جاری مذاکرات ایک مستقل اور پائیدار معاہدے کی راہ ہموار کریں گے جو خطے اور دنیا میں امن کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔
دوسری جانب محمود خان اچکزئی نے اپنی تنقید برقرار رکھتے ہوئے حکومت پر مختلف آئینی اور سیاسی معاملات میں ناکامی کے الزامات عائد کیے۔ انہوں نے بلوچستان سمیت مختلف علاقوں کے سیاسی رہنماؤں سے بامعنی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا اور پارلیمان کو جمہوری فیصلوں کا مرکز بنانے کا مطالبہ کیا۔