غزہ کے بچوں پر اقوام متحدہ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ غزہ جنگ کے دوران فلسطینی بچوں کو غیر معمولی حد تک نقصان پہنچا اور بڑی تعداد میں بچے ہلاک ہوئے۔ یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن نے جاری کی، جس نے اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والے تنازع کے دوران بچوں کے خلاف مبینہ خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران ہلاک ہونے والوں میں بچوں کا تناسب انتہائی بلند رہا۔ غزہ کے بچوں پر اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اکتوبر 2023 سے اکتوبر 2025 تک مجموعی ہلاکتوں کا تقریباً 30 فیصد بچوں پر مشتمل تھا، جو ماضی کے کئی تنازعات کے مقابلے میں زیادہ شرح ہے۔
تحقیقاتی کمیشن نے بتایا کہ زیرِ جائزہ مدت کے دوران کم از کم 20,179 فلسطینی بچے جان سے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ گنجان آباد علاقوں میں طاقتور ہتھیاروں کے استعمال نے بچوں کی ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ کیا۔ کمیشن کے مطابق یہ صورتحال بین الاقوامی قوانین کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔
Israel utterly rejects this latest libelous sham, as well as all of the COI’s other defamatory reports.
To those seeking the truth, learn more about the report’s fatal flaws at: https://t.co/mBcMVhA3xW pic.twitter.com/H3WposT6ft
— Israel in UN/Geneva🇮🇱🇺🇳 (@IsraelinGeneva) June 23, 2026
رپورٹ میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ دستیاب شواہد مبینہ طور پر نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کی حمایت کرتے ہیں۔ کمیشن نے بعض واقعات کا ذکر کیا جو مبینہ جنگ بندی کے بعد بھی پیش آئے اور جنہیں تحقیقات کا حصہ بنایا گیا۔
اسرائیل نے غزہ کے بچوں پر اقوام متحدہ کی رپورٹ کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے اسے یک طرفہ اور گمراہ کن قرار دیا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی افواج شہری نقصان کم سے کم رکھنے کی کوشش کرتی ہیں اور بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کے الزامات بے بنیاد ہیں۔
رپورٹ میں انسانی بحران کے اثرات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اس میں بار بار نقل مکانی، خوراک اور ادویات کی کمی، اور طبی سہولیات کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر کیا گیا۔ کمیشن کے مطابق ان عوامل نے بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
مزید برآں، رپورٹ میں مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی القدس کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس میں فلسطینی کم عمر افراد کے خلاف مبینہ تشدد اور بدسلوکی کے واقعات کا حوالہ دیا گیا۔ رپورٹ کے اجرا کے بعد تنازع کے انسانی پہلو اور بچوں کے تحفظ سے متعلق عالمی بحث مزید شدت اختیار کرنے کی توقع ہے۔