اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو ’’تمام توانائی جھٹکوں کی ماں‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ موجودہ بحران صرف تیل اور توانائی کی منڈیوں تک محدود نہیں ہے۔ ان کے مطابق اس کے اثرات خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے زیادہ سنگین ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ توانائی بحران دراصل کئی معاشی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں قرضوں کے بوجھ، خوراک کی قلت اور ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹوں کا سبب بن سکتی ہیں، جس سے کمزور معیشتوں پر مزید دباؤ پڑے گا۔
گوتریس کے مطابق بہت سے ترقی پذیر ممالک بیک وقت متعدد معاشی چیلنجز کا سامنا کر سکتے ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے نقل و حمل اور پیداوار کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس کے نتیجے میں خوراک کی قیمتیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں اور مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
Conflict in the Middle East has unleashed the mother of all energy shocks.
For many developing countries, this is not just an energy crisis. It’s a debt, food & development shock.
Any peace agreement would bring much needed relief, but the impacts are likely to be long-lasting.
— António Guterres (@antonioguterres) June 23, 2026
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی منڈیاں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سرمایہ کار اور اقتصادی ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ خطے میں مزید کشیدگی توانائی کی فراہمی اور عالمی تجارت کو متاثر کر سکتی ہے۔
انتونیو گوتریس نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اگر تنازع کے حل کے لیے کوئی امن معاہدہ یا سفارتی پیش رفت سامنے آتی ہے تو اس سے عالمی سطح پر کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ تنازع کے معاشی اثرات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ استحکام اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششیں کرے۔ ان کے مطابق مشرق وسطیٰ توانائی بحران صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی سلامتی اور ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔