شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن نے کہا ہے کہ ان کا ملک آئندہ بھی ایک جوہری ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق یہ بیان حکمراں ورکرز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس کے دوران دیا گیا۔
کِم جونگ اُن کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری پروگرام کو مزید مضبوط بنانے کے عزم پر قائم ہے۔ ملک پہلے ہی اقوام متحدہ اور امریکہ کی سخت پابندیوں کی زد میں ہے، جن کے تحت جوہری ہتھیاروں اور میزائل نظام کی تیاری پر پابندی عائد ہے۔
انہوں نے عالمی سکیورٹی صورتحال کو غیر مستحکم اور پیچیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ طاقتور ممالک کے رویے کی وجہ سے دنیا میں تنازعات بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ کی پالیسیوں نے یورپ اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھایا ہے۔
کِم جونگ اُن نے کہا کہ موجودہ حالات میں جوہری صلاحیت کو مضبوط کرنا ہی سب سے مؤثر حکمت عملی ہے۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ شمالی کوریا فوری طور پر جوہری تخفیف کے مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
شمالی کوریا جوہری ریاست کی پالیسی کے تحت ملک اپنے روایتی اور جدید ہتھیاروں کی تیاری بھی بڑھا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کِم جونگ اُن نے جدید جنگی جہاز اور میزائل سسٹمز کی ترقی کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ موقف اس بات کی علامت ہے کہ پیانگ یانگ خود کو ایک تسلیم شدہ جوہری طاقت کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے اور ہتھیاروں میں کمی کے بجائے ممکنہ طور پر مستقبل میں کنٹرول یا محدود معاہدوں پر بات چیت کر سکتا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شمالی کوریا طویل عرصے سے عالمی پابندیوں کے باوجود اپنے فوجی پروگرام کو جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے خطے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔