شدید فرانس ہیٹ ویو کے دوران شمالی فرانس میں ہزاروں گھروں کی بجلی بند ہوگئی، جس کے بعد حکام نے بجلی کی بحالی کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے۔ گرمی کی غیر معمولی شدت نے توانائی کے نظام پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں روزمرہ زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔
حکام کے مطابق اسپتالوں، طبی مراکز اور دیگر اہم تنصیبات کو ترجیحی بنیادوں پر بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ بزرگوں کی نگہداشت کے مراکز کو عارضی طور پر جنریٹرز فراہم کیے گئے تاکہ ضروری خدمات متاثر نہ ہوں۔ حکام نے واقعے کو حادثاتی قرار دیتے ہوئے اسے شدید گرمی سے جوڑا ہے۔
موجودہ فرانس ہیٹ ویو نے صرف فرانس ہی نہیں بلکہ یورپ کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ بلند درجہ حرارت کے باعث ٹرانسپورٹ کے نظام میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں جبکہ متعدد تعلیمی ادارے اور سیاحتی مقامات بھی عارضی طور پر بند کیے گئے ہیں۔
ماہرین موسمیات کے مطابق موجودہ صورتحال 2003 کی تباہ کن یورپی ہیٹ ویو سے ملتی جلتی ہے، جس میں ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اومیگا بلاک نامی موسمی نظام گرم ہوا کو ایک ہی علاقے میں روک کر درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔
شدید گرمی نے کاروباری سرگرمیوں اور روزگار کے معمولات کو بھی متاثر کیا ہے۔ تعمیراتی شعبے میں کام کے اوقات تبدیل کیے گئے ہیں جبکہ کسان رات کے وقت فصلوں کی کٹائی کر رہے ہیں تاکہ آگ لگنے کے خطرات سے بچا جا سکے۔ مارکیٹ میں پنکھوں اور پورٹیبل ایئر کنڈیشنرز کی مانگ بھی بڑھ گئی ہے۔
فرانس ہیٹ ویو کے اثرات انسانی جانوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ گرمی سے بچنے کے لیے پانی میں جانے والے کئی افراد ڈوب گئے جبکہ جنوب مشرقی فرانس میں دو کم عمر بچوں کی ہلاکت نے عوام کو افسردہ کر دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق بچوں کی موت شدید گرمی کے باعث ہوئی۔
دوسری جانب اٹلی اور برطانیہ سمیت دیگر یورپی ممالک بھی خطرناک حد تک بلند درجہ حرارت کا سامنا کر رہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں گرمی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے اور بعض علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔