امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو مشرق وسطیٰ دورہ کے سلسلے میں بدھ کے روز خلیجی ممالک پہنچ گئے جہاں وہ ایران اور امریکا کے حالیہ معاہدے پر اتحادی ممالک کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ دورہ خطے میں امن اور سلامتی کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
مارکو روبیو منگل کی رات ابوظہبی پہنچے اور آئندہ تین روز کے دوران متعدد اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے۔ ان کا یہ دورہ گزشتہ ہفتے طے پانے والے معاہدے کے بعد پہلا اہم سفارتی مشن تصور کیا جا رہا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے تسلیم کیا کہ خلیجی ممالک کے خدشات ان کی ملاقاتوں کا اہم موضوع ہوں گے۔ اگرچہ خطے کے ممالک جنگ کے خاتمے کا خیرمقدم کر رہے ہیں، تاہم معاہدے کی بعض شقوں پر تحفظات بھی رکھتے ہیں۔
مارکو روبیو مشرق وسطیٰ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خلیجی ممالک ایران کے لیے مجوزہ 300 ارب ڈالر کے فنڈ کے حوالے سے وضاحت چاہتے ہیں۔ بعض حکومتوں کو خدشہ ہے کہ یہ وسائل مستقبل میں ایران کی عسکری صلاحیتوں کو بڑھانے میں استعمال ہو سکتے ہیں۔
خلیجی ممالک نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حالیہ تنازع کے دوران متعدد ممالک میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں آئے تھے، جس کے باعث علاقائی سلامتی ان مذاکرات کا اہم پہلو بن گئی ہے۔
روبیو اپنے دورے کے دوران متحدہ عرب امارات اور کویت کا بھی دورہ کریں گے۔ دونوں ممالک امریکا کے اہم اتحادی ہیں اور خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کی میزبانی کرتے ہیں، اس لیے سکیورٹی تعاون پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق مارکو روبیو مشرق وسطیٰ دورہ خطے کے مستقبل کے سفارتی تعلقات کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر وہ اتحادی ممالک کے خدشات دور کرنے میں کامیاب رہے تو ایران معاہدے پر علاقائی اعتماد مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔